پر فیس شزادا سن جشق جمان اق آن : ي 2013ء

اللہ پرایھان الام کے نظاع عقانر کا بذیادیی عقیدہ ے۔ اس پر ہین کے مغیر دعواے اسلام بے حقیقت

ے۔ اللہ پہ ایھان ىہ ےکہ اللہ اس کاتجات کی بدجی حقیقت ے۔ الل د کھتنا سے ء اس کا کو گی بھسم

ٹیش اور نہ کوئی اس کا شریک ے۔ وہ پھیشہ سے سے اور پھیشہ رسے گا۔ د وی سے پیرا ہوا ے اور شہ

کوکی اس سے پیدا ہوا ے۔ کائمات اور اس میں پائی جانے والی ہرنے اللہ ہی نے لی کی سے اور انان کو تھی تصوصیت سے أىسی نے پیا کیا ے۔

اللہ نے انا ن کو ب رگزیدہ اور اض انمائوں (نیٹیروں" کے ذر بیج کر ار پ زدگی 7 رھت طررتہ مکھایا ے۔ اس علقبیرے کا فطری نقاضا ے ےکہ اق محا نا وی کی قام موجودات اور انسان کو اللہ اور صرف الد بی کا خلیقیقکردہ تلبیم کیا جاے۔ قرآن لیم میں اس ات و چلہ لہ بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ے۔ ملا سور حدہ آیات "٢‏ ھ۵ یں فرمایا: ”وہ اللہ ہی سے جس نے آسمانوں اور زین کو اور اع سمارگی چچزو ںی کو جھ اع کے درمیان ہیں جیئھے دثوں میں پیدا کیا اور ا کے بعد عرش پر علوم فرما ہوا“ سورةٗ روم آبیت ۸ ئل بیان ے: ”گیا فھوں نے بھی لنۓ آپ پر خغوروگر ہیں کیا؟ الد نے زین اور آسمانوں کو اور الع سمارگی چچزو ں کو جو اع کے ددمیان ہیں رخ اور رت کی یی پا ات

نا نکی یق ے بے مان تصوصیتع ے سور اعراف آیت ٭ا مان ے: تنم نے متکھاری (انمان کی) شلیق کی ابنداکیء پھر ھاری صورت بنلئیہ پھر فرشتوں سےکہا: آوم کو جب روم“ 7 گے آیت ۹ اس فرمایا : ”نوہ اللہ بی سے جس نے میں ایک جانع سے پیدا کیا اود ال کی جن سے ا کا جھڑا نایا کہ ان کے پاس مکون حاصل کر کے “۔ عورٗ فاظر آیت اایس وضاعت الس طر عک گی کے کے ایا نت کی داز ےر ا ےک کی وت الہ ین

ہوئی اور نہ بی جلتقی ے گر ہہ سب الد کے عم میں ہوتا ہے “۔ بلاشبہ الد رب العزت نے ہی انسان

فرشتوں کو خحلیق انان سے مط عکرنا: قرآن میں ے: اور سے 7 وت کہا تھاکہ میس زین میس ایک خلیفہ بنانے والا ہول___ ا کے بد اللہ نے کو م کو سار چچڑوں کے نام سکھائے _._ پھر الد نے آوم سے کہا: تم انھیں (فرشتو ںکو) ان چیزوں کے نام با پھر جم نے فرشتوں کو عحم دیاکہ آدم” کے آ کے سیک جا“ (البقرہ ٣۳:٣۔۳۴)۔‏ اود نے فرختوں کو بھی عم عطا ففرایا ےہ اس کہ علم کے مفیر وہ بھی اپتی ذمہ داریاں ادا خی ںکر ستے۔ فرشتوں اور انان کے لم میں فرق بر معلوم ہوجا ےک فرختوں کا جھ گروہ جس خائص ذمہ دارکی پہ مامور ہوتا سے اس کے بارے میں ان کی معلومات انمان کی معلومات سے زیادہ ہیں گر اپنے شیے کے علادہ دوسرے تمام شعہوں میں ان کی معلومات عفر ہیںہ ج بکہ انمان کا عم ہمہ گر ہے اود جربادگی یز کے بارے میں ے۔ انما لی معاطات بہت سے فرشتوں کے سرد ہونا تھے اور ٢‏ نک نے کن لیے رب کی ہدایات و رجنمائی پچچیانہ انسان کے روزھرہ اعمال کا ربکارڈ رکھناء انمان کی موت و حیات کا

۳۴۶۰ ۶۱ ی۷ کے تھام اجکامات با لانا وظی رہ ۔ اس رب انان

کو فرشتوں اور جنوں پر ھی برتری حاصل ے۔

وہ ا ا تخلیق بی مقام: ‏ پھر بم نے آوم' سے کہا تم اور تھاری بی جع یں رہ ___ پھر بم ت ۶ دیا تم سب (آوم' وا او اٹس) یہاں سے تر چا ا وقت آوم' ے اپنے رب سے چند لمات سیگ کر توبہ گیء جس کو اس کے رب نے تقو لک لیا“ (البظرہ ۲: ۵۔۶٣۳)۔‏ ای رح صور٤ٗ‏ اعراف آیت۹ ایس بیان ہوا ےہ ”پھر (ہم نے) آوم ( سے کہا) تم اور ٹا زی بی جحت میں رہو و اور جہاں سے چاو (اور جھ چاہو) کھاؤ گر ال 7 تر ورنہ گنہگار ہو چا٤ٗ‏ و و کا ای ایا نے مغ دولوں یہاں کے 7 چاوَء 4 یح ا کی 7 کک نت ےت ا ا کی وق کت ۲َٗ""0+009" ت ہگمراہ ہوگا اور نہ کلیف میں پڑے گا“ پھر الا عرافء آیت ۴۵ میں فرمایاللہ ”اس (زمن) میں "ار ینا ہوگاء ای میں ا نا ہوگا اور اسی میں (قمام ت کو زم کر کے) اکا نے ےج

یہ سب آیات ٹعھحی طور پہ شابد ہی کہ چیہ انسائی جوڑے وم و وأ )کی خحلیق کا مقام جنت ے۔ اس جت میں می بھی سے اور پالی بھیء بچلواری اور مکل وار ورخت بھی ہیں اور خہری بھیہ خر انمان کی ضرورت کی ہرز ببترین صورت میں موجود ے۔ می مہ سے جہاں مرنے کے بعد سعیدر

روعیں اور الد کی راہ جس شببد ہونے والوں کی رو یں تا م کرکی ہیں۔ اس کا نام جنت الماوگیا ے۔ ہے جت سدرة املئی پہ وا ے۔ اس مقام جک معرا عکی رات ب یکریم تثریف نے گے تے اور آپ کو اس جت کا مشاہدہ ھی کروایا گیا تھا سور جم آیت ۵۱۳ای فرمایا گیا ہے: اور ایک مرححہ پھر

اس (ممر) نے سدر؟ ا “تی (بیری کا وہ درخت جو انٹچاگی سرے پر وا سے) کے پاس اس کو اتزتے

دیکھا جہاں پاس ہی جنت المادگی سے“ اس جنت کے قریب ہی اللر رب الھمزت کا عرش ے۔ سور٤‏

دہ آیت ۵یس اس طرف اشارہ ے: ”آسمان سے زین کک دنا کے معاملات کی توامی رک رتا سے اور

اس جر یر کی روداو ا کے فور عالیٰ کت ایک اےے دن جس کی مقدار ایک ہزار سال سے“ سور٤ٗ‏ ترارح این و مار فو دحا لوان گل "نا یں

جن ت کی می سے انسان کا بنلہ بننا: اس جنت میں انان کی غحلیق سے لے استعا لک یکئی مٹی بھی * ہے۔ اس می کے بارے میں قرآن عم مس بیان ہوا ہے: ”ناوالد نے ت مکو می سے پیلرا امم ۱ (نار۳:۱۱) سور الصفتء آ بات ۱۱۔٢‏ ال بیان ے: ضا ن کو تو بم ی9 9ور گریےتے کن

وہ پھر سور رین ء آیت ٢‏ این کی فان کن نے نے کے سے سرے گارے 9 رب و تین ت٤‏ انان گی تلق کین تھے گی بز ای نگ تن ( ۳۲:۹ ایک ایے مت سے چ_لاگی جھ تیر انی کی طرح سے“ (الس رہ

نان نس تا کے جک تا ا لن از انان تع 2زاز صاصال کاغمار ے الفاطا استعال ہد ہیں۔ ‏ راب زع کے سک ا و و ا کر ملین از با می یناحور تی می ہہین ضلا ال کالفا رر سے مق دی خی موکھا ڑا گار یا لی می جھ میچرے کی طرح تی ہو“ ہیں۔ ضلال شع مز نون ءکا ترجرہ سید مودودی نے یں کیا سے: ‏ سڑی وئی طصلی کا وکنا گا[ او ز فی ای لوج رت ”اص (انمان) کی لبق کی ابنرا براو راست ارضی مادوں سے ہوگی ہےء جن کی کیفیت کو اللد تالی نے ضلصال شغ خر تم کے الفاظ بس بیان فیا ہے۔ علیہ عربی زبان میس الی سیاہسچ کو کے ہیں جس کے ائدر

سک و ا لاح و و مین کی تی ا ین ین یں و

نٹس, یچ ابی ہڑی ہوئی جس میں مڑن ےکی وجہ سے چچناگی پیدا ہوگئی ہو۔ ووسرے می ہیں: مو

رت ای تا ا ات یت ا یں اک نان ا کے (گار ے کو کت ہیں جو خخشک ہوجانے کے 7- - پ ۳ آن,ء 6ج۲ ص۵۰۷

ان تصرجات سے دانع ہو اتا ےسک انسان اڈل کا ظ لی مادہ اڑسی مٹی سے جس کے ذ رات انیچائی ایک اور ام شصعمل ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ہوا نمی ہوئی بللہ پا ی کی چٹ ی تمہ ہوئی سے جس کے باعث ذزات آبیں مس چیک جاتے ہیں۔ پھر اس مٹی می نامیالیکیمیادکی ماڑے ہوتے ہیں۔ ہے ےرہ ول اود غالی فوزاع سے حاصعل ہو تے لین او نمی ین وجار ما مکی کے ا خٹ سڑتے اور گت ہیں۔ ان مم کیمیادی تد یلیاں وا ہوثی ہیں۔ اس وجہ سے مٹی میں فشسء چیک مڑانر یجن بو پیا وجائی سے اور می سای مال ہوعائی ے۔ یہ مخ یکسی بھی تاب میں ڈہالے کے لے عودہ ہوئی ے اور سوک کر شھیار ےکی طرح گت سے۔ ابس شع مکی من یکی عحدہ تم کا اس جت میں پایا جانا جہاں انسان اڑل کی غلیق کی گئیہ زیادہ قرین قا ے۔

انت العزت کے ہا تھوں ‏ انان کی تخلیق: کن رنڈ ان اع وا نے کل کارب ےپ فرمایا: ے |گھشص! گے کیا یز اس (آوم )کو حجدہکرنے سے ماع ہوئی سے میں نے اپنے دوئوں

پاتھوں سے بنایا سے؟“ اپنے دونوں پاتھوں سے بنائےء تی بزام خود انسائی تقالب میں ڈہالے کا شمل

آدم" یھ اللر ترک وتما ی کا بہت ہڑا شرف ے۔ مٹ یکو انسا لی قالب میں ڈھا لے کی تفصیلات کا ذکر

قرآن گعم میں بیان نی ہوا۔ جس پہ اشارہ ضروری ے کہ ”اللہ نے انسان کو شئی سے پیدا کیا اور ۳٣(‏ ۶ دیالہ ہوچا اور وم ہوگی)“_ زال عرن

عحدہ اور شان دار کلییقی: انما ی الب بض دودھ بلانے وانے خوانات سے بہت می مشابتوں ے ٭ 7 ۱ ای ۰ 3 27 لْٰ پاوجور ان ے ممفرر اور اگ ہے۔ ٹران عم کی مجرر ایات و طرئی اسارہ ے: اور (اشّر

ے)( تھھواری صحورت بنالی اور ڑی رہ بنای تے (التیابن -)٦٦:۳‏ سور والین آی ت ٢‏ میں رما ا

بے ہلک جم نے انان کو ببترین ساخت پر تلق کیا “_ پھر سور٤‏ الفطار آیت ٭اٹش مزیر وضاحت رر و ما نت اک )تج مین ات ری رت راز و قیابت “ہنایا اور انس کو جس رح چاپا جو ڑکر تار کیا

ائچھی صورت. قتاسب شک مء اور مبترین ساخت پر پیدا سے جانے کا مطلب بہ سے کہ انسان کو ایی در بے کی ساخت پر فلیق کیا کیا سے جس پ ری اور جان دار محلوقق کو نیس بنایا گمیا۔ اسےہ مین انسان کی ۱ ای و ای ا امت پا کجھٹرا قد اور اس کے ساتقھد مناسب اور قخناسب تین پائوں اور ہاتھ دی گے ہیں جن کے ۵هٛھیھەء,ھء۶ء۶۶ 209ھ ہوک چلتا بچھرت ے اور وازن قائم رکتا سےء جب کہ کڈ جوان سیرعا دوتدم بھی نہیں چچل کتا۔ اس کو بولتی ہوکی زبان د یگئی ہہ ج بک کوکی حیوان دو لفظد بھی نیس ول ککتا۔ خوب صورت آگعیںء ناک اور کان عطا ہو ہیں جو سب اسے ماحول سے ۴م آ ہگی پیا کھرنےء نوازن ات مکرنے اور ابق ضروریات ملا شلکرنے مس معددگار ہیں۔ اس کو سوہینےء کچھنہ اور معلومات یکن ےا نے اف ان ح7 مات نکی فان نشین از وت تید یگئی سے مج کی بنا پہ وہ بجلائی اور نرائی اور جح اور اط یں فرق کرتا ہے۔ الکو نیک قوت فیصلہ د یگئی سے جس سے کام ل ےکر وہ ایی راو عل کا خود امتقا بکرتا سے اور ىہ لٹ کرتا سے کہ ایی کوششو ں کو سکس رات پہ لگاۓ اور سکس پہ نہ لائے۔ ا کو ییہاں کک آزادیی دی ےکلہ

چاسے نو اپنے خال قکو مانے اور اس کی بندگی کرے ورنہ اس کا الگا رکردے پا جن جن کو چاے اپنا وت بناششےء پا کک رت مانضا ہو ا سے غلاف بفاو ت کرنا چاے مر رن ان سار تووں اور سارے افخ ارات کے ساتھ اس اللہ نے اپ پیراکھردہ بے شار خلو جات پر تصر فکرنے کا اظیار دہا

سے اور وہ عم اس اخقیا ر کو استعال بھی کرجا ے۔

انا ی ج عم نا قااب عحناصر کے آپ سے آپ بج جانے سے انا فیس بن گیا سے بلمہ ایک خخداے تشیعم ۶ی ٰ ‌ى‌و‌ 9 تک سے ورست کماہ تاسب تا م کیا اور بج طرح چا کو ا ران 7 مم با قااب دودھ بلانے والے (وووعیے) چالور اور انہان ین من ا 2 یں ا لئ دیرم ے ہڑی ھمائلت رتا ے۔ ملا مم کے تام حے ڈھاضیاء باضہء دوران خون کا نظامء حضلاتہ اعصاب اور نظام ِلد وغیرہ___ سب و تن آن ہیں۔ بی وچہ ےکم 2 حوائیات یل انسان دود لے حوانات گی 0 نم کی ایک جن (نوع) ار ہوا اور اس کا نام ہوم ینس (70(10])ہو مو ے۔ بھی کھتد سے ج سک بنا پہ عامبین حیاتی ارت تی وئیل ات م کرت ہوے سوال (8271۸۲18 کے ون کی نا کین ےک ہ انسان اور ىہ دودجیلے حوانات عمائل ہیں؟ پھر خود بی ججواب دی ہیں کہ اس عمال مت کی وجہ اس کے علادہ اور کوگی ٹیس ےکہ انسان حالئی ارتا کے اصول پہ حوانات سے

پا/ بناے۔

دل چچسپ حفیقت ہہ ےکہ انسمان اور جانا ت کی بجی عمان لت وہ کمن سے جس پر نوروگمر کے نت

یس ىہ یقت سان آلی سےکہ انسان اور حیوانات دونوں بی کو اید عیعم و میم نے یق کیا ے۔ لزا دونوں میں ما لت اور مشاببت ہونا فطری اور لازی ے۔ پالئل بی طرح جس رح ایک اہر

نگ تراش کے تراے ہو لف سے ایک دوصرے سے ملف ہونے کے پاوجود اپے اندد الی ذیادبی مشابہتیں رت ہیں مج سک بفیاد پہ مجمہ سازی بیس درک رن دانے پان لیے ہیں کہ ہے ضنارےے کے تی کی وک تی ےر وت رک کے اض بش ربتی بھی ے۔ سوال ىہ سےکہ اس ساوہ سے مطفعقی حقیق کو ھن اور تل مکرنے میں کیا چز 2 ۓے؟ سو اے ا بات کہ نامع پرست وجد پارگ 0" تی کر میں نفہای اور روا خالفت پرکمریع ہیں جو انما نی شرف کو قو لککرنے میں ماع ے۔ الد تعا لی انسان کو انمان ہونے اور اس کا غلیفہ فی الارشض ہونے کے بہت بڑے شرف سے فوازجا ے گر ہہ سائضی بوچھ متجگکڑ اہ ں کو اس

شرف سے یچ گ راک تی یافنۃ جیوان بنا دتے ہیں۔

آو مم کے قالب میں روں کا بچھوگا جازا: تحلیقی ہوم" کے منصوبے کا ایک اور اہم بپہاو یہ ےکم آ وم“ ٭

کے ات ہے کات و فان و تک ا ےن ای یح وک اور مت

نی دنت می کا ىہ قالب گوشت وست کے مرک انمان میس تدیل ہوگیا۔ سورة ارہ آیت ۹ش

الد کا ارشاد ے: جب میں پورا بنا چوں ان نان ری و رت نان نزو کر الاط

سورو ص٠‏ آیت ٢‏ عرش دہرائۓ گے ہیں۔جب اللد رب العزت نے آوم کے تقااب میس اق رو یل

ص--7+ لت " کپ و پا و ا کے ائر ارادہ و اختیار اور می

ا ا ا ا ا ا ا رٹ سب کے مجھو سے کو ہروں؟ سے تی رکا گیا ے۔

ان ارۓ ىِ مولایا مورورق عور) رہ خاث ٦ال‏ 7 طراز یں: ا ا یں سے ج سک بدولت ایک ذیی حیات تیعم کی تین مرک موی ہہ بللہ اس سے مراد وہ خاش

چوہرے جو امروشور اور خعقل و تی اور فیملہ و اختبار کا عائل ہوتا سے شس کی برولت انمان مم دوسری مخ لوقات ارشی سے مناز ایک صاحب شخصیت تق صاحب آنا پرس اور حال غلافت “ق

بڑے۔ اس رو ںکو اللہ تھاٹی نے ایقی روں یا تو اس مصفی میس فرمایا ےک وہ ای گی ملک سے اور ال کی ذات پاک کی رف اس کا انقاب ایر کا سے جس رع ایک چچز اپنے مال ک کی طرف موب بوکر ا کی چچ زکھلائی ے۔ یا پچھر اس کا مطلب یہ سےکہ انسان کے اندر تعکر مگرہ شور اراددہ فیصلہء انختیار اور ایے بی دوسرے جھ اوصاف پیدا ہہوۓ ہیں وہ سب اللہ تالی کی صفات کا لو ہیں۔ ان کا سرچشمہ ماد ےکی کوگی تکیب نیس سے بلمہ اللہ تعالی کی ذات ے۔ الد کے عم سے اس کو علم ملا ہے۔ اللرکی صحکمت سے ا کو دازائی ہی ہےء الد کے ا خقیار سے ا ں کو اخقیار ملا سے“( نیم (ام ال رآنء ج س٠ض‏

بھی وو روح سے جے موت کے وقت فرح کسی انمان کے حم سے نال نے جاتے ہیں۔ ہے رو انان کے قالب میں الہ تا ی نے پھوگی۔ ا کی تحقصیلات کے بارے میں قرآن حیعم خاموشش ے۔ اخالا ىہ کام بھی عم رلی منکن کے تحت می انام پایا۔ وانٹر اعم حضرت کی تقلیق:حفرت ہو مکی ایق کے ساتقھ ساتھ ان کی زوح حضرت جو کی لبق بھی ٭ الد رب العزت نے فرماگی۔سور8 النماء کی ہنی آیت مس ےک ت مخ م کو (انمان کو) ایک چان (آوم) ےا ا ای ماع کے لان کا2 ا کے می, اک حور الع یت اشن کی اع کی میں سور اعراف آبیت ۸۹ای میں بیان ہوا ےکلہ ”نوہ الد ہی سے جس نے یں ایک جان سے پیا کیا اور ای کی مس سے اس کا جھڑا ناما جاکہ اس کے پاس سیون حاصصل کرسے“۔ حطرت جاک وکس رن تخل کیا گیا اس کی تفسیل قرن میس نین ہے ایل میس اتی بات اع ووکی سے کہ و مکی

پلی سے جو کو پیا کیا گیا۔ عمود میں انا اضافہ مزید ےہ حو کو آدم کی دائیں جانب کی تی رج یی یت کیا کی ویر ام ! بہرعال بی طفیقت ےک مہ نخرت آوم و ھوا ایک دوسرے کے 2 کون کا 7 اا پ4 یل اضا یی فرش کی فیاد ھے_

فرشتوں اور جنات کو حچرے کا عم :سورع بیقروہ آبیت "یں ان شر سے جک سس کہا: آوم کو سی ہکرو ٹے سب نے مج کیا مواے انیس کےہ ا نے ایا کیا اور گی رکیا اور دہ کافروں ین تو سور اعرافء آبیت اائیں بی عم ے: تیم نے ممھھاری لبق کی ابد کی پچھر َِِپٍِ "0" پھر فرشتوں سے کہا: آوم کو کر ار و یت ہوا“۔ سہ اود ای طر کی دوسری کئی آیات میس وہ منظر واج ہوتا ےء جب الد رب الحزت نے فرشتوں اور جو ں کو عم صادرکیاکہ آو عو حجد :کرو شری سحدہ تو صرف اللہ بی کو متلزم ے۔ یی بھی شرجی حجدہ تھا۔ اس لی کہ بہ بھی اللہ بی کا عم تہ اس کا متصید فرشتوں اور جنوں ٹس انسان (لوم و ۶أ )کی عزت افرائی اور شرف معلوم ہوتا ہے۔ اس لی کہ انسان کو کانحات کا قمام اش کا سم سپا کم اوم کم کک طز رون کو ات یت کی کت نت مت یک الل تما ی نے انسا ن کو زین پر اپنا غلیضہ مقر ر کیا تھاہ لزا فرشتوں اور جنات کو بنازا بھی مقصود تھاکہ

زمین گی انان ت2 تقاون گیا جاۓء سراہ ا ماپ

جر ےکی عم عدول: قرن عیعم میں جس جس متام پر فرڈ تو ں کو وم کو سیر وکرنے کا عم دا ٭ کیا سے وہیں پالعوم انس پا شیاشین کے ایک گروہ کی سرے کے عم کی عم عدو بھی بیان ہوئی

جس سور اعراف آیات ١۱۳۔۱۸ء‏ صورٗ تج رآیات ٣۴۔‏ ۳۳ء سور صص) آیات اے۔ سے میں مصیل ے

بیان ہداے۔ بیہاں صرف سور اعراف کا مان دیا جارہا ے بھا: تھے ون نے

روکاء ج ب کہ میں نے عم دیا تھا؟بولا: یس اس سے ؟ہتر ہوںہ و نے مجھے نگ سے پیا کیا سے اور سے می سے فرمایا: ایچھا نر یہاں سے یی ارہ تھے من میں ےکم یہاں مڑائی کا گحمی ڈککرے۔ انل جاکہ در تفیقت تو ان لوگوں میں سے سے جو خحود اتی ذات چاجے ہیں۔ بولا: مج اس دن کک مبلت دےء ج ب کہ پہ سب دوہارہ ُٹھاۓ جاگیں گے۔فرمایا: تھے مبلت ے۔ بوا: ایچھا تو جس طرحع تو نے مج ےگمرادی میں لا کیا سے میں بھی اب تیر سی ھی راہ پہ ان انسمانوں کی گحمات مل لگا رہوں گاء آگے اور جچیےء دائیں اور اکیوطرق ےت 7 رذن او تاس رے آ2 خرن نے گا فراپا: فل جا انت زلیل اور شھک رای دا لین رک کیہ ان نان سے چو خرف یینزد یمک (۱۲۔2:۱۸) ۔“گےء تچھ سیت ان سب سے ہن م کو مردوں کا

-- نے اپنے آگک سے لبق ہونے پر مڑائی دکھاٹی اور نہ صرف الد رب العزت پر الزام تراتی بھی

کی کہ نے نے مج مگمرادی میں ڑا کیا سے“ عالاککہ وہ خود نے ففس کیگھمرادی میں ملا وکیا تھا اور الد کی اطاعت سے فحل گیا اور ذات سی ران ا ا کے ین ئن گرو ھکو نے زین پہ ات جانے کا عم دیا۔ اس انتباہ کے ساتھ کہ ”نین رھ کہ ان (انسائوں) یں سے ۔““جھ تیری پروی کریں کے جچھ سیت ان سب سے نم کو بر دوں کا

جنا ت کون ہیں ؟ کر ارضی پر جنات تھی ال'د کی مخلوقی ہیں۔ ان کو اللہ نے نک کی یٹ سے انمان کی

لبق سے بہت پیلہ پیا کیا۔ نع انسانوں کو نظر نیس آتے مگمر وہ ا نکو دیکھتے ہیں۔ ىہ انساٰی آبادیوں سے ور سنسان جچہوں پر رت ہیں۔ من جنات اللہ پہ ایمان رکتے ہیں اور نت ایند اور اس کے

اطکامات سے زروگردان تھی ہیں۔ ىہ دوسرا گ-ردہ سے جو اللہ کے سد حھے رات سے السمانوں کو روکتا ے

اور ولوں جُُں وسوے ڈال ےت ان - ے افراد ضزان 'ہ(ارنۓ ہیں۔

آدم و مواء جحنت میں: اللد نیرک و تھا ی نے اپنے منصوبے کے مطابق حر ےکی تقریب کے اخ تام ٭

پر آوم' ھا کو نت شن قیام کا ِذن عام دیا: ”اور اے آوم ء و اور تیر ی بویا جنت مُں رہوء جہاں جس ہہ کو مجھارا گی چاسے کھاؤذہ گر اس درخت کے پا نہ گنا ورنہ الموں میں سے ہو چا گے“ (اعراف 2:۱۹)۔ بی بات سور بقرہہ آیہت ۵ے میں میتی اوت یس فراک یی سے۔ سور ا آیات ٦۱ا‏ ے ایس مزی کہا گیا: ”یا کرو وہ وقت جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھاکہ آدم کو سحبرہ رز ووسی سے می مگمر گے گر امیس ھا کہ انگا رک بیٹھا۔ اس پہ بحم نے آوم سےکہا: .لے تجھارا اور کھھاریی جیدی کا دشمن ہے ایب نہ ہوکہ ىہ تحھیں جت سے موا دے اور تم مصیبت میں ا کان نشین اض یں کی کے کے ان اعت تین تال را آ67 دولوں (میاں بوی) ال ورخت کا ای کی کے

* آوم کی گحمات میں تھا۔ پت چچئی چڑی پالوں ے وہ آوم' و ون آز یچسلانے میس کامیاب ور رکفم تن ان تک و ان ےت ین ور ن2 تین کی یی اس لات زان کے تح ھا ان سے کہاکہ میس تھارا سا ج رخواہ ہوں۔ آنرکار دونو ںکو دھوکا د ےکر اپنے ڈہب پہ لے آیا۔ آرکار جب انھوں نے اس درخت کا مزہ کچھا فو ان کے ستر ایک دوسرے کے ساس عھل گے اور وہ اپۓے کون از ون کان اک کے نان انت کے تسین سر ان نے تین اں درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تھواراکھاا وشن ہے؟“ دونوں بول آُٹھے: ‏ اے رب! یم نے اپے أوپہ ‏ م کیہ اب اگر نو نے جم سے درگزد نہ فرمایا اور رعم نہ کیا تو یقیناحم تیاہ ہو جائیں گے“ (اعراف ٤٢‏ :ے۔۲۳)۔ پھر الد فو کے ا غ این وف رت کے 7 ہو

مارے لیے ایک خاصص مرت کک زین می ہی جاے آرار سے اور سامالن زلیست سے“ اور فرمایا: (٢۲-_۲۵نے ‏ ریں 7 2 اور وڑیں منا ے اور ا ٹن ے م کو آخرکار الا جاۓ گاٴٴ اف

آوم و حا اور اشٹس کا زین پر تارا جانا: اللد اعم الھاکشن نے آ وع و حا اور شیطان کو جن ےکر٤‏ ٭ ارشی سے ات جانے کا عم صاد کیا اور پھر دہ لوگ زین پہ تار دیے گے اس متدیہہ کے ساتھ تی رے بوض یعض سے رشن ہیں کیٹ و وو نع رت کے اق نت تین میری طرف ےکوی ہدایت پنچے فو ج میری اس بدایت پہ چلاہ نہ ان پر کوگی خوف ہوگا اور تہ وہ ون یوون رو کت آک2 نکاس سھت کو منتہتن ٣:۲۹_۲۸(‏ ے٤‏ (الظرم

تم عدولی کے نج مہ ان کے سن ڈڑھا کے کا جھ افنظام کیا تھا وہ تکھ مگیا۔ اب جنت کے ورنھتوں سے

چوں سے افھوں نے اتی سرب شی کی۔ ىہ واقعہ اس حقیقت کا غماز ےککہ انسان جب بھی کسی معالے ین کت ات کے تی اف ی کے ک7 ئن کا لیک ےکا ان کے ساتھ اللر کی تائیر و حمایت اس وقت کک سے جب کک وہ اللر کا مت فرمان ے۔ طاعع تک عدود رے تدم اہر ہا لے ہی أے ال کی جائید و حایت ہ رگز حاصل نہ ہوگیء بلہ دہ اپنے ٹس کے حوالےکردیا جا گا۔ انسان نے شحیطان سے کی قلست سن کے برہنہ ہوجانے کے م گے پرکھائی اود یج بھی کارگاو حیات یں یہ جات بڑگ ابھم ےک شحیطان اور ا کی ہریت کی پور یکوشش سے کہ لف ذراع استعال کر کے مرد اور عور ت کو ایک دوسرے کے ساس برہنہ یا شجم برہنہککردے اور الس کو

رو خرالی؛ با ”تیب جررٴ قرار نے از انمالع و کت خال با ںی بافنے شاب ت کردے۔

آوم و موا کو جت سے بالا ضرور گر سزا کے طور پر غیں بللہ مزید آزمائیش و امتمان کے ےہ اس ےت دونوں نے فور٤بی‏ ری خلطمی تسلیم ککرلی اور الد رب الھخزت سے معاٹی کے خواستہگار ہو ۓ اور الد نے ان دوٹوں کو معاف مھ یکردیا۔ آدم و ھوا اپنے رب گا فرماں برداری یل پوری مر کامیاب سان او نان کی 70+ 01 وہ ا ودوہت کے وڈ میں اگ ر اطاعت سے نز وگرواٹ یک رسلا ہے۔ پھر انسمان نے زدافکمار اخیار کیاہ الد کے جفور اپقی بڑاگی اور گھمنٹر نیں ۰ ا پا ال و لی

اخقیار کی اور اللہ رب العزت پھ الژام وی ریت کی ای تی لی رت وع یی شی کے ان ان سک یی تارق منوہے کا ایک حصرے۔ انما نکی غحلیبق سے ببت پلیہ ىہ کام شروں ہو کا تھا سور٤‏ رّ آیت

ارت ا تر کن ین کن ا کے و کات کے مو ات جن رشن مس سے“۔ سورة لا آیت ب ھبیا نکرکی ہے: تیم نے زین کا فرش بھایا اور اس مس تھارے لیے

راۓ بنا ۓ اور 2 سے ال برعان پچھر اس کے ذرے 2 2 01 پیراوار ]ای سور زم آیت٢‏ تا ی ے: لٹاس (ایل) نے تھوارے یے مولگیوں میں ے آٹھ ٹر اور ماوہ پیرا کے“_ اور سور٤ٗ‏ مل آبیت امیس کہا گھا گت ”اور وہ کون ےے ھن نے شی ن کو جانے فھرآر: نایا او ئن کے از وا توق کے اور االں ں (پہاڑوں کی) میں گاڑریںی؟

یہاں موڑانا موی نج 7 طویل انتا اج بہوگا: ”زمین کا ابی ے عدوضصاب ات ال وخ آپادی 08 لیے جاے قرار ہونا بھی کوکی سادہ کی بات نیں سے۔ ا سکر٤‏ خاکی کو مجن حلیمانہ مناسبنوں کے ساتقھ

ہو ےک ہہ منائتٹیں ایک یم و دن جاور ملق کی جریر سے بغیر قائم عہ ہوحتی تھیں۔ بیٹککرہ و لو ا0۱۱ اب اور راز خیں ے۔ اگر اس میں ذرا سا بھی اجنراز ہوجہ جس کے خطرناک متا کا ہم ببھی زلزلہ آجانے ١8١۶+‏ 00 0000ھ

سام آ٠‏ اور چچتا سے جس ے رات اور ون کا اخااف زونھ)ا ہوا ۶ ئ00

وٹ سور کے سان رہتا اور دو ا١‏ جروقت پا ر بنا ق یہا ںکوگی آبادی مکن نہ ہوئی کیوکنہ ایک

ٹر غ کو مردی اور لے وری نبانات ا ا ای و ںا

کی شمدت بے آب وگیاہ اور غی رآباد بنا دہتی۔ ا کرہ پر *٭ھ تل کی بلنعدی کک ہوا کا ای ک یف رڈا چچڑھا دیا گیا سے جو شہایوں کی خوف ناک بم باری سے اسے بھائے ہوئے ےء ورتہ روڑائہ ٢کروڑ‏

شہاب جو ٭ تل می من کی رفرار سے زیم ن کی طرف گرتے ہیں یہاں دہ تباتی میا ےکک کوکی انسانء ضوع پا ذزشت ججتا رز سنا ان بھی وو ریت خزازت کو ابو بی رکھتی ہے بی رون سے ادل تھا اور زین کے ملف حموں کک آب ای کی خدمت انجام دی سے اور بی انےان اور وانع اور نلزات گا نل کی مطلو گیسیں 1 ہجینء کار بن ڈائی ا کسائیڑ] فراہ مک ری سے۔ یہ نہ ہوئی

٥‏ ۶ی۶یی)۶۶ 9 و9

لو سے نے پاللل مل وہ معدعیات اور ناف شم کے کیمیادگی اجزا ات تو رگ کے گے بین جو نعالیء خوائی اوز اننانی زع دگی کے گے خطلوب ہیں۔ جن بک کین صردسادانع مفقور

وا نج دہاں کی زی کی زن کی کے سار کے اکن - 7- کک مندرولء ددپاٗلء

چیلوں,چخھموں اور زبرزمین سوتوں کی شحل میں پالی کا ہڑا معٹیم اخان ذخیرہ فراہ مکردیا گیا ے اور

پہاڑوں پر ھی اس کے 7/7 و پچ رپ ھا کر ایت تا اقظام کیا گیا یں اں تیر ے اش ان تی زندگی کا امکان نہ تھا۔ پھر اس پالٰ٠‏ ہوا اور تام ُن اشیا کو جھ زشن پھ پل |0 رای کم ہوئی ہو تو ہوا اور ال ٤0‏ - ً0 درچ ارت الا زیادہ ہوناکہ زن گی یہاں دشوار ہو ماتی۔ےکشش اگر زیادہ ہوئی نو ہوا ببہ تکشیف بوعائیء اس کا دبا بڑھ جانہ بنارات آلی کا اُٹنا مکل ہوتا اور پارشیں نہ ہوگھتیں, ا کن ےت کے کے فا وت سان وی رن و ہوئے کی صورت مُل انان اور حوانات گیا امت بب تم ہوئی اور ان کا 0 ی۷ 4)۹ --- ۶۷۹+ ۰> سے ایک خاص فاسلے پہ رکھا گیا سے جھ [انسما یہ حبدالی اور خباتالی] آبادبی کے لیے مناسب ترین سے۔

اکر اس کا فاصلہ زیادہ ہوتا تو سورج سے اس کو حرار ت گم تہ سردی بہت زیادہ ہوثیء م وحم بہت مے و و ا ا ا ا ا ا ا ا و رن اور دوصرکی بہت ىی زی مل جحل کر اے انمان مصی لوق کی سلونت کے تابل نہ رج وہتیں۔

بی صرف چند وہ مناجتیں ہیں جن کی بدوات زین ابقی موجودہ آبادی کے لے جاے قرار یی ہے ۔کوٹی گی کال نان او و ان کو فک اوھ غر پر ےکی اق یی اق کی یا می فی ای وا یک نے نین خودمود تتائم ہہوگئی ہیںء اور نہ ہے مھا نکر سنا ے کہ اس میم الغان کابقی منصوہ کو بنانے اور تر وہہ تل لانے میں کسی دیوبیہ دییتہ یا جن با می و وی ء پا فرش کا کوگی دغل سے“۔ نمیم القرآن, ج۳

(ض۵۹۰-_۵۹۲

ر٤‏ خاکی پھ مل اضسا ی کی غلیق:آدم اور کو زین پہ متارنے کے بعد اور زین کو ان کا مان اور ٭ من قرار دسینے کے بعد مرد اور عورت کے نطفوں کے ملا پ کو انسمان کیا پیرالیٹی کا طریقہ قرار دیا۔ يہ طریقہ نل ضا یکو تائم رنہ ترقی دسینے اور زشن پہ پپھیلانے اور بمان ےکی خرض سے چاری

فرمایا۔ سور؟ مونین آیت مس بیان ے: ”لودی فو سے جس نے ت مکو ضئی سے پی دا کیا پھر پطفہ سے“ ا نکی مزید تر سور دھر* ایت سی میں کی گئی کہ : ”نیم نے انسا ن کو ایک لوط نطفے سے پیا اک او و نک ”اور الد ہی سے شس نے متھارے سے چم ٹس بیوہاں بناگیس اور ای نے ان

(٤ے:٦ا‏ بیووں سے یں بے اور پوت عطا سیے“۔ (ائحل

ال خوان پ4 کٹ اک یع تع اک مو ات رن کیا ینان ایک سے ست سے چلاکی جھ تیر پا ی کی طر کا سے“ (اکسچدہ ے:۳۲۔۹)۔۲٢۔ ‏ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا تو اسے ایک خفیف ساکل رہ گیاے لیے سے وہ لق پھرتی رہی“ (اعراف ۹)۔٣۔‏ ”کیا دہ ایک تقر پانی کا نطفہ نہ تھاجھ (رمم مادر ۳س ) ٹکایا جانا سے؟ پھر وہ اسیک لو ھا بناہ پھر الد نے اس کا حم بنایا اور اس کے اعحضا ٤‏ 9 ا بنائیں“ (الشیاتۃ ۵ے: ے۳ ۳۹)۔ مرد اور عورت کے لے وانے نطفوں سے انمان کے بنائے کی تفصبیل سر٤‏ رہ آیات ۵۔٦ئل‏ در ے۔ یی یت کن را ۶ن ھقال کے مو یر کو قرق کن نات اور خیوانات پیا گی۔ ان کی لن الوا پیا کن اور محروم رہ ور .2

نت و سیت ا کی تن کن کےا دن ٢‏ گار کی شی قرآن عحیعم مس اس بارے مس بیان ہے: ”پک سے وہ ذات جس نے ام اشیا کے جوڑے پیدا

سے خواہ وہ زین کی خہانات میں سے ہہوں پا خود ان کی اپتی جٹس٠‏ مچنی نو انما ی بش یا ان اشیا ش ۰ ۱ ٣:۳٣ (‏ جن کو ہہ جات کک مئییں“ (ییں“

کر اک پہ جر انمان ایک خاضص حرت کک زن گی گزارے گا۔ زندگی گزارنے کے لے اپنے اخقتیار سے ا نودہ طرییقہ انقیا رککرے گا جھ اس کے رب نے مجمبروں کے ذرہیے اس کک باٹیایا سے یا دہ طریقہ اخقیا رکرے گا جو رب کے بتائۓ ہو ط ریہ کے با ےکولی اور طرییقہ ے۔ جس بی انسان کی دت سے اور ہر انمان کے امخقان گی رت خلف ہے۔ اس مدت کے اخحظام پہ جرانسمان پر موت 2 ول و 0 کر دیا جاۓ گا۔ دوسرا مرعلہ ىہ سے کہ پھر ایک مدت بعد ای اک سے اس کو اتی اص لی حالت میں اُڑھا کھٹرا کیا جاۓ گا۔ فی احقیقت یہ جرانسمان گا دوسری پیدرائنشی ے۔ اس وقت بھی اسے رب الھزت ہی تخلیق فرماۓ گا۔ اس ارے میں قرآن یم میں سور وں آیت ےایں ہہ شہادرت موجود ے: ت” یھر وہ (الر) تھی سی زین میں وابیں نے جا گا اور اس سے کیک م کو ڑکال کنا کرے گا“ سور لاہ آیت ۵۵یس اس رع بیان ہوا ےکلہ ”ای زین سے کم نے ت مکو پیر اکیا او ای یش تم ے یں وائییں نے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوپارہ کال یں ے